Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گفتگو کرنے سے پہلے مجھے آداب کرے

امجد رحمانی

گفتگو کرنے سے پہلے مجھے آداب کرے

امجد رحمانی

MORE BYامجد رحمانی

    گفتگو کرنے سے پہلے مجھے آداب کرے

    میری مرجھائی طبیعت کو وہ شاداب کرے

    میں کھنچا جاتا ہوں بن ڈور اسی کی جانب

    اس کی آنکھوں کی کشش یوں مجھے بیتاب کرے

    اس کے جلووں کی چمک چاندنی راتیں جیسے

    اس کے جلووں سے حسد آج بھی مہتاب کرے

    ایک تو ہے کہ تجھے یاد نہ آئی اس کی

    ایک وہ شخص تری یادوں کو نایاب کرے

    تیری یادوں نے مری نیند اڑائی ایسے

    رات بھر گفتگو آنکھوں سے وہ مہتاب کرے

    آنکھ رونے پہ جو آئے تو بہا دے دریا

    کتنے جلتے ہوئے صحراؤں کو سیراب کرے

    مجھ کو اپنوں نے یوں برباد کیا ہے امجدؔ

    جیسے برباد کسی چہرے کو تیزاب کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے