گفتگو کرنے سے پہلے مجھے آداب کرے
گفتگو کرنے سے پہلے مجھے آداب کرے
میری مرجھائی طبیعت کو وہ شاداب کرے
میں کھنچا جاتا ہوں بن ڈور اسی کی جانب
اس کی آنکھوں کی کشش یوں مجھے بیتاب کرے
اس کے جلووں کی چمک چاندنی راتیں جیسے
اس کے جلووں سے حسد آج بھی مہتاب کرے
ایک تو ہے کہ تجھے یاد نہ آئی اس کی
ایک وہ شخص تری یادوں کو نایاب کرے
تیری یادوں نے مری نیند اڑائی ایسے
رات بھر گفتگو آنکھوں سے وہ مہتاب کرے
آنکھ رونے پہ جو آئے تو بہا دے دریا
کتنے جلتے ہوئے صحراؤں کو سیراب کرے
مجھ کو اپنوں نے یوں برباد کیا ہے امجدؔ
جیسے برباد کسی چہرے کو تیزاب کرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.