وہ اپنی ضد پہ اڑا رہے گا ہم اپنی ضد پہ اڑے رہیں گے
وہ اپنی ضد پہ اڑا رہے گا ہم اپنی ضد پہ اڑے رہیں گے
تو عین ممکن ہے مسئلے جو کھڑے ہوئے تھے کھڑے رہیں گے
او بے وقوفو تم اپنے پنجوں کے بل پہ کب تک کھڑے رہو گے
خدا نے جن کو بڑا بنایا وہ تا قیامت بڑے رہیں گے
یہ پھول جس دن جوان ہوں گے تو دیکھ لینا یہ بوڑھے مالی
پھر ان کا گلشن پہ حق نہ ہوگا بس ایک جانب پڑے رہیں گے
ہم آسمانوں سے آگے جانے کا خواب لے کر نکل پڑے ہیں
ہمیں پتہ ہے ہماری راہوں میں امتحاں اب کڑے رہیں گے
مری نظر سے اترنے والو مثال دے کر بتا رہا ہوں
جو پھول شاخوں سے جھڑ چکے ہیں وہ اب ہمیشہ جھڑے رہیں گے
یہ دشمنوں کے نہیں ہیں کاشفؔ یہ تیر سارے ہیں دوستوں کے
انہیں بدن سے نکال بھی دوں یہ تب بھی دل میں جڑے رہیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.