عمر بھر کو بس یہی اک امتحاں باقی رہا
عمر بھر کو بس یہی اک امتحاں باقی رہا
اک عجب رشتہ ہمارے درمیاں باقی رہا
وہ عمارت جو بہت اونچی تھی اک دن ڈھہ گئی
کچھ نہیں باقی رہا بس خاکداں باقی رہا
منزلیں گم ہیں کہیں اور ہم سفر بھی کھو گئے
راستوں کو کوسنا بھی اب کہاں باقی رہا
کچھ سنہرے خواب آ کر پوچھتے ہیں یہ سوال
کس طرح سے کچھ امیدوں کو مکاں باقی رہا
بے رخی تم سے ابھی آسان ہے مجھ کو بہت
اب نہ کوئی بھی وفا کا آشیاں باقی رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.