نیند روٹھی ہے کچھ ایسی کہ منانے سے رہے
نیند روٹھی ہے کچھ ایسی کہ منانے سے رہے
دور ہم خواب کی خوشبو کے خزانے سے رہے
اپنے پرکھوں کی روایات کو بھولے ہوئے لوگ
راستے کا کوئی پتھر بھی ہٹانے سے رہے
لاکھ چاہا پہ زمانہ کبھی اپنا نہ ہوا
اس لیے ہم بھی خفا سارے زمانے سے رہے
کیوں طبیعت میں یہ سنجیدگی آئی آخر
کیا کہا جائے کہ کیوں ہنسنے ہنسانے سے رہے
وقت نے ایسے نظر بند کیا ہے سب کو
کوئی آنے سے رہا ہم کہیں جانے سے رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.