دل سے اک خواہش بے تاب لگا دیتا ہے
دل سے اک خواہش بے تاب لگا دیتا ہے
پھر وہ پابندیٔ آداب لگا دیتا ہے
لفظ بے صوت ہوں لیکن ترا کاتب لہجہ
میرے اطراف میں اعراب لگا دیتا ہے
پہلے کہتا ہے کہ افلاک سے آگے دیکھوں
پھر کہیں بیچ میں مہتاب لگا دیتا ہے
ہر وہ الزام جو دشمن نہ لگائے مجھ پر
وہ مرا حلقۂ احباب لگا دیتا ہے
رات دیتا ہے تھکے دن کو تھپکنے کے لئے
پھر تعاقب میں کوئی خواب لگا دیتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.