اب کیا بتاؤں سارے کے سارے ہی خواب تھے
اب کیا بتاؤں سارے کے سارے ہی خواب تھے
اس عشق کی کتاب میں جتنے بھی باب تھے
میں خود سے اب تو کہتی ہوں تنہائی میں یہی
تم میری زندگی کا برا انتخاب تھے
محبوب کے ادب میں یہ آداب دیکھیے
راہوں سے اٹھتے جاتے تھے جتنے حجاب تھے
ہر بات میں صحیح تمہی اور ہم غلط
کیوں دوستی ہی کی تھی اگر ہم خراب تھے
وہ عشق میں کسی کے سزا کاٹتے رہے
اس کی دکاں میں جتنے بھی کالے گلاب تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.