رتجگوں سے تنگ آ کر خواب خودکشی کر لیں
رتجگوں سے تنگ آ کر خواب خودکشی کر لیں
اس سے لاکھ بہتر ہے ہم ہی زندگی کر لیں
اپنے خون میں ڈالیں اپنی جستجو کا رس
اور اپنے زخموں کو یار کی گلی کر لیں
دن چڑھے تو چمکا لیں دل کی آگ سے آنکھیں
رات ہو تو آنکھوں سے دل کو شبنمی کر لیں
آج کل ہوا اکثر مجھ سے کہتی رہتی ہے
آؤ قیمتی پنکھا اور قیمتی کر لیں
عشق کرنے والے ہیں تو مرا کہا مانیں
آپ اپنی ہر شے کا رنگ سرمئی کر لیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.