میں یہ نہیں کہتا کہ بیاباں میں کھلا ہوں
میں یہ نہیں کہتا کہ بیاباں میں کھلا ہوں
خوشبو میں مگر دوسرے پھولوں سے جدا ہوں
سن لو تو اتر جاؤں گا دل میں بہر انداز
نغمہ ہوں چٹکتے ہوئے غنچوں کی صدا ہوں
ذہنوں میں جگاتا ہوں نئی صبح کا احساس
میں فکر کے چڑھتے ہوئے سورج کی ضیا ہوں
پھیلوں تو میں سرما کی سجل دھوپ کی خوشبو
برسوں تو مہکتے ہوئے ساون کی گھٹا ہوں
مقتل سے چمن تک ہے مری ذات کا پرتو
جوں خون شہیداں ترے ہاتھوں کی حنا ہوں
اک درد جگا دیتا ہوں سوئی ہوئی شب میں
میں عرش سے اک ٹوٹتے تارے کی بکا ہوں
اوروں کے کسی پھول کی خوشبو نہیں مجھ میں
جو کچھ بھی ہوں بس اپنے ہی گلشن کی ہوا ہوں
طوفان ہوں ساحل ہوں میں الہام ہوں ابہام
شاعر ہوں مفکر ہوں پیمبر ہوں خدا ہوں
تم چل کے مٹا ڈالو مرے پاؤں کا ہر نقش
میں ریت کے صحرا میں اگر سمت نما ہوں
اوڑھا ہے کسی وقت میں شیطاں کا لبادہ
وہ وقت بھی آیا ہے کہ جبریل بنا ہوں
نغمے بھی لکھے رات کو پہرے بھی دیئے ہیں
اس جنگ میں میں بھی تو برابر سے لڑا ہوں
ہاں یوں بھی ہوا ہے کہ کبھی تجھ کو منا کر
میں تیرے تجاہل کے عوض روٹھ گیا ہوں
ہاں یوں بھی ہوا ہے کہ کبھی زخم کھرچ کر
میں اپنے ہی اشکوں پہ کئی بار ہنسا ہوں
ہاں یوں بھی ہوا ہے کہ تجھے دھیان میں لا کر
میں فرط پرستش میں تجھے بھول گیا ہوں
ہاں یوں بھی ہوا ہے کہ ترے سامنے آ کر
قاصر ہوں سمجھنے سے کہ میں کون ہوں کیا ہوں
کیوں چاند کے مندر میں زمیں چھوڑ کے جاؤں
بیٹا ہوں میں جس ماں کا اسے پوج رہا ہوں
ہے عجز کی صورت نہ تکبر کی ضرورت
اچھا ہوں ہزاروں سے ہزاروں سے برا ہوں
ہو اور تو سینے میں چھرا گھونپ کے مر جائے
جس کرب سے میں آج لہو تھوک رہا ہوں
اور ایک غم ذات کے ہوتے ہوئے زلفیؔ
ممکن نہیں مجھ سے کہ کسی اور کو چاہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.