Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں یہ نہیں کہتا کہ بیاباں میں کھلا ہوں

سیف زلفی

میں یہ نہیں کہتا کہ بیاباں میں کھلا ہوں

سیف زلفی

MORE BYسیف زلفی

    میں یہ نہیں کہتا کہ بیاباں میں کھلا ہوں

    خوشبو میں مگر دوسرے پھولوں سے جدا ہوں

    سن لو تو اتر جاؤں گا دل میں بہر انداز

    نغمہ ہوں چٹکتے ہوئے غنچوں کی صدا ہوں

    ذہنوں میں جگاتا ہوں نئی صبح کا احساس

    میں فکر کے چڑھتے ہوئے سورج کی ضیا ہوں

    پھیلوں تو میں سرما کی سجل دھوپ کی خوشبو

    برسوں تو مہکتے ہوئے ساون کی گھٹا ہوں

    مقتل سے چمن تک ہے مری ذات کا پرتو

    جوں خون شہیداں ترے ہاتھوں کی حنا ہوں

    اک درد جگا دیتا ہوں سوئی ہوئی شب میں

    میں عرش سے اک ٹوٹتے تارے کی بکا ہوں

    اوروں کے کسی پھول کی خوشبو نہیں مجھ میں

    جو کچھ بھی ہوں بس اپنے ہی گلشن کی ہوا ہوں

    طوفان ہوں ساحل ہوں میں الہام ہوں ابہام

    شاعر ہوں مفکر ہوں پیمبر ہوں خدا ہوں

    تم چل کے مٹا ڈالو مرے پاؤں کا ہر نقش

    میں ریت کے صحرا میں اگر سمت نما ہوں

    اوڑھا ہے کسی وقت میں شیطاں کا لبادہ

    وہ وقت بھی آیا ہے کہ جبریل بنا ہوں

    نغمے بھی لکھے رات کو پہرے بھی دیئے ہیں

    اس جنگ میں میں بھی تو برابر سے لڑا ہوں

    ہاں یوں بھی ہوا ہے کہ کبھی تجھ کو منا کر

    میں تیرے تجاہل کے عوض روٹھ گیا ہوں

    ہاں یوں بھی ہوا ہے کہ کبھی زخم کھرچ کر

    میں اپنے ہی اشکوں پہ کئی بار ہنسا ہوں

    ہاں یوں بھی ہوا ہے کہ تجھے دھیان میں لا کر

    میں فرط پرستش میں تجھے بھول گیا ہوں

    ہاں یوں بھی ہوا ہے کہ ترے سامنے آ کر

    قاصر ہوں سمجھنے سے کہ میں کون ہوں کیا ہوں

    کیوں چاند کے مندر میں زمیں چھوڑ کے جاؤں

    بیٹا ہوں میں جس ماں کا اسے پوج رہا ہوں

    ہے عجز کی صورت نہ تکبر کی ضرورت

    اچھا ہوں ہزاروں سے ہزاروں سے برا ہوں

    ہو اور تو سینے میں چھرا گھونپ کے مر جائے

    جس کرب سے میں آج لہو تھوک رہا ہوں

    اور ایک غم ذات کے ہوتے ہوئے زلفیؔ

    ممکن نہیں مجھ سے کہ کسی اور کو چاہوں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے