خود سے اصلاح شب و روز کا وعدہ کر کے
خود سے اصلاح شب و روز کا وعدہ کر کے
توڑ دیتا ہوں میں ہر روز ارادہ کر کے
جان پر قرض چکا کر اسے احساں جانا
قد گھٹا بیٹھا ہوں دعوے کو زیادہ کر کے
مجتمع کرتا ہوں بکھرا ہوا پیکر اپنا
پھر بکھر جاتا ہوں خواہش کا اعادہ کر کے
مجھ کو دیجے نہ قبیلے کے گناہوں کی سزا
میں جماعت میں رہا عزم فرادی کر کے
تاب نظارہ نہ تھی تم میں تو اے میرے کلیم
یونہی مطعون ہوئے خواہش سادہ کر کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.