Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہجوم غم سے نکل کر خوشی کے پاس گیا

مضطر اعظمی

ہجوم غم سے نکل کر خوشی کے پاس گیا

مضطر اعظمی

MORE BYمضطر اعظمی

    ہجوم غم سے نکل کر خوشی کے پاس گیا

    اسی کے در سے اٹھا پھر اسی کے پاس گیا

    غزل نے اوڑھ لی حسن بیان کی چادر

    خیال جب بھی تری سادگی کے پاس گیا

    بچھا گیا تھا مری راہ میں جو انگارے

    میں ننگے پاؤں اسی آدمی کے پاس گیا

    ضرورتوں کا سفر ختم ہی نہیں ہوتا

    کسی کے پاس گیا پھر کسی کے پاس گیا

    عذاب جب بھی کسی شہر پر ہوا نازل

    گناہ دوڑ کے اندھی گلی کے پاس گیا

    خدا کا شکر ہے لغزش نہ پاؤں میں آئی

    خودی کے پاس گیا بے خودی کے پاس گیا

    خزاں کے ہاتھ میں آئے چمن کے گل بوٹے

    گلوں کا رنگ تبسم کلی کے پاس گیا

    مذاق اڑانے مری مفلسی کا اے مضطرؔ

    امیر شہر مری جھونپڑی کے پاس گیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے