ہجوم غم سے نکل کر خوشی کے پاس گیا
ہجوم غم سے نکل کر خوشی کے پاس گیا
اسی کے در سے اٹھا پھر اسی کے پاس گیا
غزل نے اوڑھ لی حسن بیان کی چادر
خیال جب بھی تری سادگی کے پاس گیا
بچھا گیا تھا مری راہ میں جو انگارے
میں ننگے پاؤں اسی آدمی کے پاس گیا
ضرورتوں کا سفر ختم ہی نہیں ہوتا
کسی کے پاس گیا پھر کسی کے پاس گیا
عذاب جب بھی کسی شہر پر ہوا نازل
گناہ دوڑ کے اندھی گلی کے پاس گیا
خدا کا شکر ہے لغزش نہ پاؤں میں آئی
خودی کے پاس گیا بے خودی کے پاس گیا
خزاں کے ہاتھ میں آئے چمن کے گل بوٹے
گلوں کا رنگ تبسم کلی کے پاس گیا
مذاق اڑانے مری مفلسی کا اے مضطرؔ
امیر شہر مری جھونپڑی کے پاس گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.