آئنہ شعلۂ لذت کا دکھاتا ہے مجھے
آئنہ شعلۂ لذت کا دکھاتا ہے مجھے
شام ڈھلتے ہی کوئی جرم بلاتا ہے مجھے
صرف خالد ہی پہ مرکوز نہیں میری نگاہ
ہر کوئی خود سے گریزاں نظر آتا ہے مجھے
لہر ہوں آب رواں کی کسی پیاسے کا خیال
جانب ساحل دریا لیے جاتا ہے مجھے
ایک چہرہ جسے دیکھا بھی نہیں آنکھوں نے
رات دن شہر کی گلیوں میں پھراتا ہے مجھے
جی میں آتا ہے مٹا دوں اسے بڑھ کر آصفؔ
اپنے ہونے کا جو احساس دلاتا ہے مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.