Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تراشی ہے مرے ہاتھوں نے اک مورت جو پتھر کی

کاوش کمال

تراشی ہے مرے ہاتھوں نے اک مورت جو پتھر کی

کاوش کمال

MORE BYکاوش کمال

    تراشی ہے مرے ہاتھوں نے اک مورت جو پتھر کی

    کہ جس کو دیکھ کر شرما گئی تخلیق آذر کی

    خدا ہی جانے ان کی آنکھ سے کیوں اشک بہہ نکلے

    جو حالت پوچھنے آئے تھے میرے قلب مضطر کی

    کسی کے وعدۂ فردا کا مجھ پر یہ اثر ٹھہرا

    گنا کرتا ہوں پہروں بیٹھ کر لہریں سمندر کی

    خدا شاہد کہ اپنی چار دن کی زندگانی میں

    نہ تخت و تاج کی خواہش نہ حسرت ہی رہی زر کی

    عجب طرفہ تماشا ہے کہ گلشن اس نے ہی لوٹا

    حفاظت کر رہا تھا گلستاں میں جو گل تر کی

    اسی سے تم کو ہو جائے گا اندازہ کہ میں کیا ہوں

    مرے قاتل نے اب قیمت لگائی ہے مرے سر کی

    ہے اپنا عزم ہی اب ہم سفر اور رہنما کاوشؔ

    ضرورت ہم سفر کی ہے نہ مجھ کو آج رہبر کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے