تراشی ہے مرے ہاتھوں نے اک مورت جو پتھر کی
تراشی ہے مرے ہاتھوں نے اک مورت جو پتھر کی
کہ جس کو دیکھ کر شرما گئی تخلیق آذر کی
خدا ہی جانے ان کی آنکھ سے کیوں اشک بہہ نکلے
جو حالت پوچھنے آئے تھے میرے قلب مضطر کی
کسی کے وعدۂ فردا کا مجھ پر یہ اثر ٹھہرا
گنا کرتا ہوں پہروں بیٹھ کر لہریں سمندر کی
خدا شاہد کہ اپنی چار دن کی زندگانی میں
نہ تخت و تاج کی خواہش نہ حسرت ہی رہی زر کی
عجب طرفہ تماشا ہے کہ گلشن اس نے ہی لوٹا
حفاظت کر رہا تھا گلستاں میں جو گل تر کی
اسی سے تم کو ہو جائے گا اندازہ کہ میں کیا ہوں
مرے قاتل نے اب قیمت لگائی ہے مرے سر کی
ہے اپنا عزم ہی اب ہم سفر اور رہنما کاوشؔ
ضرورت ہم سفر کی ہے نہ مجھ کو آج رہبر کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.