نکل کر دل کے اندر سے کبھی باہر نہیں آتا
نکل کر دل کے اندر سے کبھی باہر نہیں آتا
تصور میں تو رہتا ہے وہ کاغذ پر نہیں آتا
وہی اک نام ہے جو لب پہ آتا ہی نہیں میرے
لکھوں بھی کس طرح اس کو وہ کاغذ پر نہیں آتا
اسے پردے میں جب دیکھا تو بس ہم نے یہی جانا
زمیں پر چاند رہتا ہے مگر باہر نہیں آتا
اگر پینے کہ چاہت ہے تو پھر آگے بڑھو صاحب
تکلف سے کسی کا بھی یہاں نمبر نہیں آتا
اگر میں سر جھکا دیتا تری شمشیر کے آگے
تو پھر اعزاز خود داری مرے سر پر نہیں آتا
لحد کہتے ہیں اس کو سب اجل ہے جس کا دروازہ
وہ ایسا شہر ہے جس میں کوئی جا کر نہیں آتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.