کچھ کم نہیں تھے ہم بھی کسی اعتبار سے
کچھ کم نہیں تھے ہم بھی کسی اعتبار سے
خم کھا گئے ہیں اپنی شکستوں کے بار سے
کس کو ہے اب دماغ تمنائے رنگ و بو
نادم ہیں دل کے جذبۂ بے اختیار سے
کوئی سکون پا نہ سکے جس کی چھاؤں میں
کیا فائدہ ہے اس شجر سایہ دار سے
کندن بنے ہیں آتش قلب و جگر سے ہم
بہتر ہے اپنا غم طرب مستعار سے
بے مہر موسموں کے تلاطم میں گھر گیا
دل کو بچا کے لائے تھے اس رہ گزار سے
شاید کہ تیرگی چھٹے شاید کہ پو پھٹے
حالات اب ہوئے تو ہیں کچھ سازگار سے
فارغؔ دل فگار گلستاں سے کم نہیں
نسبت ہے ایک گونہ ہمیں گل بہار سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.