اس طرح دل سے درد کا سودا کریں گے ہم
اس طرح دل سے درد کا سودا کریں گے ہم
خود زخم کھا کے خود ہی مداوا کریں گے ہم
مر جائیں گے کبھی بھی نہ ایسا کریں گے ہم
سوچا بھی کیسے آپ کو رسوا کریں گے ہم
گنتی کے صرف چار ہی دن ہیں ہمارے پاس
اس مختصر حیات میں کیا کیا کریں گے ہم
ہم کو چڑھا کے دار کرو کھیل ختم شد
زندہ رہے تو اور تماشہ کریں گے ہم
گر روشنی کی ہم کو ضرورت پڑی کبھی
خود اپنا گھر جلا کے اجالا کریں گے ہم
جینے کا ڈھنگ دیکھ کے حیراں نہ ہوں جناب
ہنسنے کا ڈھونگ اور بھی پیارا کریں گے ہم
لٹنے کے بعد ہم نے یہ سوچا ہے ہر دفعہ
اتنا کسی پہ اب نہ بھروسہ کریں گے ہم
قسمت سے جو ملا ہے ہمیں وہ قبول ہے
احمدؔ اسی کے ساتھ گزارا کریں گے ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.