حسن خوددار پہ غازہ ہے خود آرائی کا
حسن خوددار پہ غازہ ہے خود آرائی کا
دیکھیں جن جن کو بھی دعویٰ ہے شکیبائی کا
عشق پھر عشق بھی ایسے بت ہرجائی کا
جس پہ سایہ نہ پڑا گوشۂ تنہائی کا
شرم کیا خوف بھی ہے دیدہ وروں سے ان کو
اور پھر شوق بھی ہے انجمن آرائی کا
محفل ناز میں تم یوں ہی رہو جلوہ فگن
چاہے جو حال بھی ہو جائے تماشائی کا
جرم تخلیق تمنا سے رہے وہ تو بری
نام رسوا ہوا معصوم تمنائی کا
میری اس فطرت ایذا طلبی سے پہلے
تھا کہاں ان کو سلیقہ ستم آرائی کا
تم سے پھر بھی مری وحشت کا مداوا نہ ہوا
تم نے دیکھا ہے تماشا مری رسوائی کا
خندہ زن ہے مرے احوال پریشاں پہ وہ شوخ
کتنا قاتل ہے یہ انداز مسیحائی کا
شمع دیر و حرم و شمس و قمر گل کر دو
جب اندھیرا ہو مقدر مری بینائی کا
سب کہیں انفس و آفاق کا عالم جس کو
ایک گوشہ ہے مری عالم تنہائی کا
جوش مے موج ہوا تند و تلاطم گویا
سلسلہ ہے کسی مچلی ہوئی انگڑائی کا
وہ خراماں ہیں گلستاں میں بہ انداز بہار
دیکھ تاباںؔ یہی موقع ہے پذیرائی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.