Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

انا سے جنگ تھی غیرت کو مارتا کیسے

آصف مرزا

انا سے جنگ تھی غیرت کو مارتا کیسے

آصف مرزا

MORE BYآصف مرزا

    انا سے جنگ تھی غیرت کو مارتا کیسے

    میں اپنے آپ سے لڑتا تو ہارتا کیسے

    تمہارے ایک نہیں نے بچا لیا ورنہ

    تمہارے پیار کا احساں اتارتا کیسے

    بلا کا شور تھا آواز دب کے رہ جاتی

    پکارتا بھی تمہیں تو پکارتا کیسے

    زمیں سے ہاتھ فلک تک نہیں گیا میرا

    تمہیں گمان سے نیچے اتارتا کیسے

    وہ سوچ مار دی جو متفق نہ تھی تجھ سے

    یہ متقی تری خواہش کو مارتا کیسے

    تری نظر کا اگر آئنہ نہیں ہوتا

    میں اپنے آپ کو اس میں سنوارتا کیسے

    سو میں نے مار دیا دھیرے دھیرے خود کو ہی

    ترے بنا میں یہ جیون گزارتا کیسے

    نہیں ڈبوتا زمانہ اگر مجھے آصفؔ

    مصیبتوں سے میں خود کو ابھارتا کیسے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے