انا سے جنگ تھی غیرت کو مارتا کیسے
انا سے جنگ تھی غیرت کو مارتا کیسے
میں اپنے آپ سے لڑتا تو ہارتا کیسے
تمہارے ایک نہیں نے بچا لیا ورنہ
تمہارے پیار کا احساں اتارتا کیسے
بلا کا شور تھا آواز دب کے رہ جاتی
پکارتا بھی تمہیں تو پکارتا کیسے
زمیں سے ہاتھ فلک تک نہیں گیا میرا
تمہیں گمان سے نیچے اتارتا کیسے
وہ سوچ مار دی جو متفق نہ تھی تجھ سے
یہ متقی تری خواہش کو مارتا کیسے
تری نظر کا اگر آئنہ نہیں ہوتا
میں اپنے آپ کو اس میں سنوارتا کیسے
سو میں نے مار دیا دھیرے دھیرے خود کو ہی
ترے بنا میں یہ جیون گزارتا کیسے
نہیں ڈبوتا زمانہ اگر مجھے آصفؔ
مصیبتوں سے میں خود کو ابھارتا کیسے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.