آزردہ نہ ہو کشمکش دل کی طرف سے
آزردہ نہ ہو کشمکش دل کی طرف سے
طوفاں کو گزر جانے دے ساحل کی طرف سے
خودداریٔ کردار کی غیرت کو مٹا کر
ہم کیسے گزرتے تری محفل کی طرف سے
بچئے بھی کہاں تک کہ ہے امکان تباہی
طوفاں کی طرف سے کبھی ساحل کی طرف سے
یہ خار یہ دشواریٔ جادہ یہ دھندلکے
سامان پذیرائی ہیں منزل کی طرف سے
توہین مسافر ہے غم دورئ منزل
اب ایک قدم اور سہی دل کی طرف سے
ایسے میں نہ مرتا ہو اگر کوئی تو مر جائے
آتی ہے ہوا کوچۂ قاتل کی طرف سے
منزل نے قدم بڑھ کے لیے جوشؔ سر راہ
جب ہم نے نظر پھیر لی منزل کی طرف سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.