آج تیرے حکم سے دیوار بھی گر جائے گی
آج تیرے حکم سے دیوار بھی گر جائے گی
ہاں مگر کل تک تری سرکار بھی گر جائے گی
یار مجھ کو پیٹھ کی جانب سے آ کر مارنا
ورنہ تیرے ہاتھ سے تلوار بھی گر جائے گی
گر رہا ہے دن بہ دن معیار تیری سوچ کا
اب ترا لہجہ تری گفتار بھی گر جائے گی
قد بڑھایا میں نے تو دروازہ چھوٹا پڑ گیا
سر جھکاؤں گا تو اب دستار بھی گر جائے گی
سرخیوں میں چھپ رہا ہے آج کل ساحلؔ کا نام
شہر میں اب وقعت اخبار بھی گر جائے گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.