تو مرے پیار کے زینے سے اتر جائے گا
تو مرے پیار کے زینے سے اتر جائے گا
یونہی بے سود رہے گا تو بکھر جائے گا
تیرے وعدے ترے قاصد کو تسلی دیں گے
تیرا بیمار تری راہوں پہ مر جائے گا
یہ زمیں والوں نے جو خود کو خدا سمجھا ہے
آسماں والا خدا ہونے سے ڈر جائے گا
جانے کس روز دلاسے کو خوشی پہنچے گی
جانے کس روز تو وحشت سے اتر جائے گا
ایک دوجے کو محبت کی سزا دیتے ہیں
ورنہ یہ پیڑ اداسی میں سنور جائے گا
بس یہی سوچ کے زندہ ہوں میں کاشف اوراؔ
اک نہ اک روز تو مجھ پر بھی وہ مر جائے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.