ترا عطا کیا ہوا شعور عمر بھر رہا
ترا عطا کیا ہوا شعور عمر بھر رہا
پیا تو ایک جام تھا سرور عمر بھر رہا
ترے ہی نام پر جیا ترے ہی نام پر مرا
تری شراب کے نشے میں چور عمر بھر رہا
بصد ادب بہ ہر نفس ہے تیرا شکر اے خدا
کہ مجھ پہ تیرے فیض کا وفور عمر بھر رہا
اسی کی برکتوں سے حادثے نہ پاس آ سکے
زباں پہ نام آپ کا حضور عمر بھر رہا
لٹے ہوئے نواب زادوں کا بھرم بھی خوب تھا
ریاستیں اجڑ گئیں غرور عمر بھر رہا
وہ اک وفا شعار تھا ہمیں سے اس کو پیار تھا
نہ جانے کیوں یہ ذہن میں فتور عمر بھر رہا
کسی سے ذکر تک نہیں کیا غموں کا تا حیات
مرا مزاج تھا یہی غیور عمر بھر رہا
نظر میں اہل فن کی جو روایتیں فضول تھیں
ظفر بھی ان روایتوں سے دور عمر بھر رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.