ماورائے قضا نہیں ہوتا
ماورائے قضا نہیں ہوتا
کوئی انساں خدا نہیں ہوتا
کرب احساس اک خزانہ ہے
ہر کسی کو عطا نہیں ہوتا
اس کو بھوکے کا کیا خیال رہے
جس نے فاقہ سہا نہیں ہوتا
شاخ سے پھول توڑنا ہے برا
دیکھنا تو برا نہیں ہوتا
رات تو پھر بھی رات ہے جذبیؔ
آج کل دن میں کیا نہیں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.