خیال غیر کہیں نقص بندگی تو نہیں
خیال غیر کہیں نقص بندگی تو نہیں
خدا کے قرب میں حائل تری خودی تو نہیں
وفا ہنسی تو نہیں عشق دل لگی تو نہیں
جناب دل تمہیں زیبا یہ سادگی تو نہیں
خوشی خوشی ترے غم سہہ لیا ہی کرتا ہوں
اگرچہ غم ہے بہرحال غم خوشی تو نہیں
طرح طرح کے مصائب دیے ہیں دنیا نے
غم حیات ہی دنیائے زندگی تو نہیں
مجھے یہ ڈر ہے شب غم نہ مستقل ہو جائے
یہ جانتا ہوں کہ یہ رات آخری تو نہیں
جبین ناز پہ پڑتی ہے کیوں شکن پہ شکن
مری نظر ترے جلوؤں کو آرسی تو نہیں
ابھی جمال حقیقت ہے سو حجابوں میں
یہ رنگ و نور کے جلوے ہی دیدنی تو نہیں
دھڑکتا دل بھی ہے شامل خیال یار کے ساتھ
نفس کی آمد و شد ہی پہ زندگی تو نہیں
لبوں پہ آہ نہ آنکھوں میں اشک ہی تاباںؔ
یہ زندگی سی کوئی شئے ہے زندگی تو نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.