جنت کی سیر کر لوں بڑا خواب دیکھ لوں
جنت کی سیر کر لوں بڑا خواب دیکھ لوں
سوتا ہوں تاکہ پھر سے ترا خواب دیکھ لوں
سارا جہاں خدا کو منانے کی ضد میں ہے
میں سوچتا ہوں سو کے ترا خواب دیکھ لوں
سورج چراغ چاند ہیں میرے پڑاؤ اور
کہتے ہیں بےوقوف یہ کیا خواب دیکھ لوں
کر لوں گا روزی روٹی کا بھی اٹھ کے اہتمام
آنکھوں میں روشنی ہے بڑا خواب دیکھ لوں
کاشفؔ فلک کو چھونا بھی نیندوں سی نیند ہے
بہتر ہے جاگ جاؤں خدا خواب دیکھ لوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.