مرے پہلو میں شاید دل نہیں ہے
مرے پہلو میں شاید دل نہیں ہے
کہ اب اشکوں میں خوں شامل نہیں ہے
تلاش نا خدا مقصد ہے میرا
مرے پیش نظر ساحل نہیں ہے
نظر محجوب ہو جاتی ہے ورنہ
یہاں پردہ کوئی حائل نہیں ہے
ہر اک تعمیر کی تخریب ضد ہے
تری منزل مری منزل نہیں ہے
کمال حسن ہے آئینہ سازی
ہمارا عشق ہی کامل نہیں ہے
کہا ساقی نے واصفؔ کو بلاؤ
کریں کیا گرمئ محفل نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.