غرور دل کی خودی کا مٹا دیا میں نے
غرور دل کی خودی کا مٹا دیا میں نے
بنا کے خون کو پانی بہا دیا میں نے
کچھ آرزوئیں تھیں مایوس دل کی ڈھارس کو
انہیں بھی خواب سمجھ کر بھلا دیا میں نے
بھرے ہیں حرف تمنا میں سیکڑوں دفتر
مٹایا اس کو تو سب کچھ مٹا دیا میں نے
اندھیری رات محبت کی اور آنکھیں بند
چراغ پاس نہ تھا دل جلا دیا میں نے
زمانہ روتا ہے میں خوش ہوں پی کے زہر کا جام
یہ روز روز کا جھگڑا مٹا دیا میں نے
جب آ کے تا بہ شجر برق ہو گئی واپس
تو آج خود ہی نشیمن جلا دیا میں نے
در حبیب پہ سر بے خودی میں رکھ کے منیرؔ
جبیں سے نقش سکوں کو مٹا دیا میں نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.