آدمی کا آدمی شیدا ملے
آدمی کا آدمی شیدا ملے
کون کس کے خون کا پیاسا ملے
انجمن آرائیاں ہیں چار سو
شہر میں ذوق نظر تنہا ملے
آسماں زیر قدم آئے تو کیا
دل کی دنیا میں کوئی رستہ ملے
مل سکیں ارض و سما لیکن کہاں
ڈال سے ٹوٹا ہوا پتا ملے
نام جن کا ذہن میں آتا نہیں
ان کا ہی چہرہ ہمیں ہرجا ملے
آج واصفؔ کا نشیمن جل گیا
کل یہی گلشن تمہیں جلتا ملے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.