اس سے بچھڑے ہیں تو اشکوں کے گہر لے جائیں
اس سے بچھڑے ہیں تو اشکوں کے گہر لے جائیں
اور کیا اس کے سوا زاد سفر لے جائیں
زندگی ہو گئی سوکھے ہوئے پتوں کی طرح
اب ہواؤں کی ہے مرضی کہ جدھر لے جائیں
ہمیں اس شرط پہ دریا نے رہائی دی ہے
باندھ کر پاؤں میں ہم اپنے بھنور لے جائیں
درد تنہائی کسک زخم تمنا آنسو
اتنے چہرے ہیں پریشاں کسے گھر لے جائیں
جن کی آنکھوں کو نہیں ملتا حقیقت کا سراغ
آشناؔ وہ مرا انداز نظر لے جائیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.