Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں نے گر کھولی زباں تو کیا سے کیا ہو جائے گا

حسن امام فدائی

میں نے گر کھولی زباں تو کیا سے کیا ہو جائے گا

حسن امام فدائی

MORE BYحسن امام فدائی

    میں نے گر کھولی زباں تو کیا سے کیا ہو جائے گا

    کچھ نہ کچھ اچھا نہیں تو کچھ برا ہو جائے گا

    اتنا جھک کر ان سے ملنے کی ضرورت ہی نہیں

    وہ تو اک انسان ہے کیا وہ خدا ہو جائے گا

    دل میں ایماں کی حرارت ہے تو پھر کیا سوچنا

    سطح دریا پر بھی اک دن راستہ ہو جائے گا

    آمد دور خزاں سے اتنا رنجیدہ نہ ہو

    سبز موسم آتے ہی پتا ہرا ہو جائے گا

    میں نے اس سے مسکرا کر اس سے دل کی بات کی

    کیا خبر تھی میرا محسن یوں خفا ہو جائے گا

    دل کی گہرائی سے جس کو میں نے چاہا تھا کبھی

    چلتے چلتے راہ میں مجھ سے جدا ہو جائے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے