اس طرف جن کا التفات نہیں
اس طرف جن کا التفات نہیں
دل کے درپے نہ ہوں تو بات نہیں
اک ذرا گفتگو سے ہیں محروم
ورنہ کیا کیا معاملات نہیں
کچھ نہ دیکھوں کہ تم رہو موجود
آنکھ اٹھاؤں تو کائنات نہیں
سوزش زخم آرزو کا علاج
موت کیوں ہو اگر حیات نہیں
کچھ نہ پوچھو تو لاکھ شکوے ہیں
پوچھ دیکھو تو کوئی بات نہیں
داغ ہیں دل کے دیکھے بھالے سے
کوئی ایسے نوادرات نہیں
روز اک طرفہ کائنات بنی
روز اک طرفہ کائنات نہیں
باغباں باغباں پہ ہے موقوف
گلستاں گلستاں کی بات نہیں
خوب ہیں اپنی ذات سے کچھ لوگ
ورنہ ہم سے بھی بے صفات نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.