چلتا رہتا ہے رات بھر خاموش
چلتا رہتا ہے رات بھر خاموش
روشنی بانٹتا قمر خاموش
لوگ آنکھوں سے بات کرتے ہیں
اور لگتی ہے ہر نظر خاموش
کیسے ٹوٹے گا یہ سکوت آخر
مدتوں سے ہیں بام و در خاموش
زندگی کے دیار سے ہٹ کر
اور کرنا ہے اک سفر خاموش
جینے دے گی نہ تم کو یہ دنیا
ظلم سہتے رہیں اگر خاموش
سختیاں موسموں کی سہہ کر بھی
بانٹتا ہے ثمر شجر خاموش
بے وجہ بولنے سے کیا حاصل
ہو گیا وہ یہ بول کر خاموش
بے ہنر کر رہے تھے ہنگامہ
اور راشدؔ تھے با ہنر خاموش
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.