کہہ دو یہ اس سے اگلے مہینے ہولی ہے
کہہ دو یہ اس سے اگلے مہینے ہولی ہے
ہم نے بھی رنگوں کی دکان اک کھولی ہے
برسوں بعد اس ہجر کے پیڑ پہ مور آئے
برسوں بعد اس پیڑ پہ کوئل بولی ہے
سورج کھیلا ساتھ مرے اس آنگن میں
چاند بھی کوئی غیر نہیں ہمجولی ہے
اے عطار زمانہ نسخہ تو پڑھ لے
تو نے دوائے وصل بہت کم تولی ہے
پچکاری میں بھر کے تمناؤں کا لہو
ہولی کھیلنے نکلی کون سی ٹولی ہے
اس میں ہجر کی باتیں وصل کے قصے بھی
یہ میرا دیوان طلسمی جھولی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.