صحرا کی گرم دھوپ میں سویا کروں گا میں
صحرا کی گرم دھوپ میں سویا کروں گا میں
اب بارشوں کے ساتھ نہ رویا کروں گا میں
دن کو اڑا کروں گا میں دانے کی آڑ میں
پنچھی کا رزق کاندھے پہ ڈھویا کروں گا میں
آنکھوں میں کارواں ہے سو رکنے کا اب نہیں
کاغذ کو آنسوؤں سے بھگویا کروں گا میں
صحرا کی ریگ پر بھی جلاتا رہا ہوں جی
دل کو مگر فرات سے دھویا کروں گا میں
چوموں گا تیرے ہونٹ بھی نظروں کے لمس سے
پلکوں پہ ان کی سرخی پرویا کروں گا میں
دریا میں ڈال دوں گا میں کاغذ کی کشتیاں
بچپن کے بیج پیری میں بویا کروں گا میں
کاشفؔ تمہاری زیست کی بکھری کتاب میں
دیکھوں گا ایک شکل تو کھویا کروں گا میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.