مرے پیروں میں جو بیڑی پڑی ہے
مرے پیروں میں جو بیڑی پڑی ہے
خرد مندی نہیں دیوانگی ہے
منظم کارواں ہو کیسے کوئی
کہ ذہنوں میں بڑی بے رہ روی ہے
ہزاروں ناخدا ہوتے ہیں جس کے
وہی کشتی تو اکثر ڈوبتی ہے
جو کام آ جائے یارو دوسروں کے
حقیقت میں وہی تو زندگی ہے
ہجوم غم میں بھی میں ہنس رہا ہوں
مجھے حیرت سے دنیا دیکھتی ہے
نہ پوچھو ہم سے اپنے غم کی قیمت
تمہارا غم ہماری زندگی ہے
نظر آئے نہ کیوں مے خانہ ویراں
نہ وہ ساقی نہ شان مے کشی ہے
نہ جانے کب لٹا شب کا مسافر
نہ جانے کب سے شبنم رو رہی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.