لہروں نے ٹوٹی کشتی کو کمتر سمجھ لیا
لہروں نے ٹوٹی کشتی کو کمتر سمجھ لیا
اچھا ہوا کہ کشتی نے تیور سمجھ لیا
جس دام جس نے چاہا اسی دام میں رکھا
مجھ کو کسی غریب کا زیور سمجھ لیا
آتا رہا ہوں کام مفادات کے بنا
مجھ کو سبھی نے اپنا مقدر سمجھ لیا
میں چاہتا ہوں چھٹیاں کچھ تو انہیں ملیں
ان الجھنوں نے مجھ کو تو دفتر سمجھ لیا
کچھ اس لیے بھی قافلہ لٹتا چلا گیا
اک راہزن کو اپنا ہی رہبر سمجھ لیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.