کارواں کی ڈولتی کشتی کا منظر دیکھ لے
کارواں کی ڈولتی کشتی کا منظر دیکھ لے
قافلے کی سمت بھی اے کاش رہبر دیکھ لے
سن ذرا کونجوں کے نوحے چپ کبوتر دیکھ لے
حال بستی کی تباہی کا بھی آ کر دیکھ لے
ہر طرف پھیلی اداسی اے ستم گر دیکھ لے
خشک دریا دیکھ لے سوکھا سمندر دیکھ لے
اہل حق تعداد کی بنیاد پر چلتے نہیں
دیکھ مت لاکھوں کی جانب بس بہتر دیکھ لے
بے بسی کی انتہا پر ہستیٔ دل دوز ہے
ہو گئی ہے زندگانی کتنی دوبھر دیکھ لے
اس لیے بھی میں نے برسوں آنکھ جھپکائی نہیں
عین ممکن ہے مری جانب پلٹ کر دیکھ لے
میں بیاہی جا چکی لیکن تمہارے ہجر سے
ڈال کپڑوں پر نظر اور میلے زیور دیکھ لے
یوں تو وہ آفاق میں بھی ہے رضاؔ جلوہ فگن
ویسے اچھا تو یہی ہے دل کے اندر دیکھ لے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.