ہر طرف سے نظروں کا وار قاتلانہ ہے
ہر طرف سے نظروں کا وار قاتلانہ ہے
اک طرف اکیلا دل اک طرف زمانہ ہے
خود ڈبو کے کشتی کو غم کی تہ کو پانا ہے
زندگی کی ٹوٹی ناؤ گھاٹ سے لگانا ہے
تیز رو ہواؤں میں اک چراغ حسرت ہوں
جن کی ہر ادا قاتل ان سے دوستانہ ہے
دیکھ لے نظر بھر کر برق کی نہیں ہمت
وقت کی نگاہوں میں میرا آشیانہ ہے
پا کے چھوڑ دوں کیوں کر ڈھونڈتا پھروں ہر سو
تو تو ٹھہرا ہرجائی تیرا کیا ٹھکانہ ہے
لے کے لاش ہستی کی تم کہو کدھر جاؤں
ہاتھ میں مقدر کے اب تو تازیانہ ہے
ترسے ہونٹ ڈوبے ہیں ساغر محبت میں
زہر ہو کہ امرت ہو پیاس تو بجھانا ہے
کاش میں منیرؔ ان سے اس قدر تو کہہ سکتا
آپ سے محبت ہے اور والہانہ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.