نشو و نما کا ہر کوئی حق دار کیوں نہیں
نشو و نما کا ہر کوئی حق دار کیوں نہیں
ہر راہ سب کے واسطے ہموار کیوں نہیں
خاموش رہ سکے نہ عجب رنگ دیکھ کر
ورنہ ہمیں لحاظ رخ یار کیوں نہیں
اس طرز برہمی سے ہمیں اختلاف ہے
ورنہ خیال خاطر سرکار کیوں نہیں
سب کچھ اگر ہے ٹھیک تو پھر یہ سوال ہے
اہل نظر بھی تیرے طرف دار کیوں نہیں
کرتا نہیں زمانہ کسی کو کبھی معاف
تیری نظر میں وقت کی رفتار کیوں نہیں
جس سرزمیں سے پیار کا دعویٰ تجھے ہے آج
اس سر زمیں کے باسیوں سے پیار کیوں نہیں
پودا تو ہے درخت کی صورت میں سامنے
لیکن کوئی بھی شاخ ثمر بار کیوں نہیں
ظالم کو یاد کرتے ہیں ظالم کے نام سے
روحیؔ عیاں ہے خوش وہ ستمگار کیوں نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.