یاد سفر سے راستہ اتنا مہک گیا
یاد سفر سے راستہ اتنا مہک گیا
میں تیرے گھر کے پاس پہنچ کر بھٹک گیا
رات اتنی چاندنی تھی کہ ہر راہ رو کے ساتھ
میں اپنی جستجو میں بہت دور تک گیا
موج نسیم درد اٹھی پچھلی رات یوں
دل شاخ جاں پہ صورت غنچہ چٹک گیا
یاد وفا کے ایک ہی جھونکے سے جھول کر
عشق اس کا مثل شاخ سبک تن لچک گیا
مدت کے بعد آج سر رہ گزار پھر
شانوں سے ایک شوخ کے آنچل سرک گیا
دہرایا آج اس نے کچھ ایسے وفا کا گیت
ساز دل خموش میں شعلہ لپک گیا
ایسے لگا کہ میں بھی ہوں سورج جو تو ہے چاند
جب مجھ کو دیکھ کر ترا چہرہ چمک گیا
یوں بھی ہوا کہ وسعت صحرا کے حسن سے
مانند جام مے دل تشنہ چھلک گیا
طول سفر کا غم تھا کہ ختم سفر کا رنج
منزل نظرؔ پڑی تو دل زار تھک گیا
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.