وہ خود گم ہو گیا جس کو تلاش یار میں دیکھا
وہ خود گم ہو گیا جس کو تلاش یار میں دیکھا
عجب اندھیر یہ اس عشق کی سرکار میں دیکھا
غرض یہ ہے کہ دیکھا سب نے جلوہ تیری قدرت کا
کسی نے پھول میں دیکھا کسی نے خار میں دیکھا
نتیجہ شومیٔ تقدیر سے عرض تمنا کا
جو کچھ انکار میں دیکھا وہی اقرار میں دیکھا
پڑا مجنوں کو جس سے سابقہ صحرا نوردی میں
وہ عالم ہم نے گھر بیٹھے در و دیوار میں دیکھا
جھکا کر سر یہ اس نے کیوں کہا اللہ حافظ ہے
الٰہی خیر ہو کیا ہجر کے بیمار میں دیکھا
وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کس میں دیکھا عیب خود بینی
برا مانیں گے مانیں کہہ تو دوں سرکار میں دیکھا
یہ ہی دیکھو کہ اس کو دیکھ کر کیا میری حالت ہے
قمرؔ یہ کچھ نہ پوچھو کیا نگاہ یار میں دیکھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.