Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ خود گم ہو گیا جس کو تلاش یار میں دیکھا

قمر بدایونی

وہ خود گم ہو گیا جس کو تلاش یار میں دیکھا

قمر بدایونی

MORE BYقمر بدایونی

    وہ خود گم ہو گیا جس کو تلاش یار میں دیکھا

    عجب اندھیر یہ اس عشق کی سرکار میں دیکھا

    غرض یہ ہے کہ دیکھا سب نے جلوہ تیری قدرت کا

    کسی نے پھول میں دیکھا کسی نے خار میں دیکھا

    نتیجہ شومیٔ تقدیر سے عرض تمنا کا

    جو کچھ انکار میں دیکھا وہی اقرار میں دیکھا

    پڑا مجنوں کو جس سے سابقہ صحرا نوردی میں

    وہ عالم ہم نے گھر بیٹھے در و دیوار میں دیکھا

    جھکا کر سر یہ اس نے کیوں کہا اللہ حافظ ہے

    الٰہی خیر ہو کیا ہجر کے بیمار میں دیکھا

    وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کس میں دیکھا عیب خود بینی

    برا مانیں گے مانیں کہہ تو دوں سرکار میں دیکھا

    یہ ہی دیکھو کہ اس کو دیکھ کر کیا میری حالت ہے

    قمرؔ یہ کچھ نہ پوچھو کیا نگاہ یار میں دیکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے