مرے شعر میرا یہ رابطہ نہ گریز ہے نہ تپاک ہے
مرے شعر میرا یہ رابطہ نہ گریز ہے نہ تپاک ہے
ہے حکایت دل نارسا نہ گریز ہے نہ تپاک ہے
کبھی اس تپاک کی جستجو کبھی اس گریز کی آرزو
یہی زندگی ہے تو مرحبا نہ گریز ہے نہ تپاک ہے
کبھی زخم تازہ کا رونا رو کبھی اندمال کا ہونا ہو
مرے عرض غم تری انتہا نہ گریز ہے نہ تپاک ہے
کہیں ذوق وصل کے مجرئی کہیں رنج ہجر کے نالہ زن
یہ کسے کہوں مرا مدعا نہ گریز ہے نہ تپاک ہے
کبھی دل کو چھو کے گزر گیا کبھی لمحہ بھر کو ٹھہر گیا
مرے حرف تازہ کا معجزہ نہ گریز ہے نہ تپاک ہے
نہ یہی کہ سب سے جدا رہو نہ یہی کہ سب میں سدا رہو
کہ وہی سفر ہے جو سلسلہ نہ گریز ہے نہ تپاک ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.