Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہزار چہرے اگرچہ دنیا میں روبرو تھے مگر وہ چہرہ

جواد سرور سید

ہزار چہرے اگرچہ دنیا میں روبرو تھے مگر وہ چہرہ

جواد سرور سید

MORE BYجواد سرور سید

    ہزار چہرے اگرچہ دنیا میں روبرو تھے مگر وہ چہرہ

    ہزار لمحے دل شکستہ کی جستجو تھے مگر وہ چہرہ

    خیال ایسے بھی جی میں آئے جو ہفت اقلیم میں نہ پائے

    بہت تھے ایسے جو لائق صد ہزار جو تھے مگر وہ چہرہ

    بہت تھے بازار میں چمن میں رئیس محفل کی انجمن میں

    بہت جواہر تھے جو سلاطیں کی آبرو تھے مگر وہ چہرہ

    چراغ بزم جہاں کئی تھے پری نفس نغمہ خواں کئی تھے

    ہزار تھے جو کہ زیب گلدان رنگ و بو تھے مگر وہ چہرہ

    بہت مناظر تھے صبح و شام بہار عالم میں جلوہ فرما

    بہت سے ان میں بہشت سامان آرزو تھے مگر وہ چہرہ

    طلسم حیرت مدام گھیرے رہا ہمیں آئنے کی صورت

    عجب تماشے نگار عالم کے چار سو تھے مگر وہ چہرہ

    عجیب وحشت ملی چمن میں سکون پایا نہ انجمن میں

    بہت سے مونس ہماری آنکھوں کے روبرو تھے مگر وہ چہرہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے