ہزار چہرے اگرچہ دنیا میں روبرو تھے مگر وہ چہرہ
ہزار چہرے اگرچہ دنیا میں روبرو تھے مگر وہ چہرہ
ہزار لمحے دل شکستہ کی جستجو تھے مگر وہ چہرہ
خیال ایسے بھی جی میں آئے جو ہفت اقلیم میں نہ پائے
بہت تھے ایسے جو لائق صد ہزار جو تھے مگر وہ چہرہ
بہت تھے بازار میں چمن میں رئیس محفل کی انجمن میں
بہت جواہر تھے جو سلاطیں کی آبرو تھے مگر وہ چہرہ
چراغ بزم جہاں کئی تھے پری نفس نغمہ خواں کئی تھے
ہزار تھے جو کہ زیب گلدان رنگ و بو تھے مگر وہ چہرہ
بہت مناظر تھے صبح و شام بہار عالم میں جلوہ فرما
بہت سے ان میں بہشت سامان آرزو تھے مگر وہ چہرہ
طلسم حیرت مدام گھیرے رہا ہمیں آئنے کی صورت
عجب تماشے نگار عالم کے چار سو تھے مگر وہ چہرہ
عجیب وحشت ملی چمن میں سکون پایا نہ انجمن میں
بہت سے مونس ہماری آنکھوں کے روبرو تھے مگر وہ چہرہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.