ایک ہی منظر مسلسل اور اکثر دیکھنا
ایک ہی منظر مسلسل اور اکثر دیکھنا
پہلے سے دیکھے ہوئے کو حد سے بڑھ کر دیکھنا
منکشف ہو جائیں گے لہروں کے اور ناؤ کے بھید
تم کبھی میری نگاہوں سے سمندر دیکھنا
بھیڑ میں آئے بھلے تنہائی میں ہو جلوہ گر
اور کچھ مت دیکھنا بس اس کے تیور دیکھنا
بھول کر بھی مت پلٹنا یار کے در سے کبھی
چاہے لمحے کے لئے بھی ہو میسر دیکھنا
ایک ہی نقطہ سمجھ آیا ہے راہ عشق میں
اس کو جب بھی دیکھنا پہلے سے بہتر دیکھنا
جامیؔ کے لہجے میں کس کی جستجو ہے بار بار
میرے شعروں میں چھپا ہر ایک جوہر دیکھنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.