دل کی خواہش ہے کہ وہ زہر پھر اک بار پیوں
دل کی خواہش ہے کہ وہ زہر پھر اک بار پیوں
رات کا کرب سہوں دن کی تمازت میں جلوں
ایسی ہلچل میں سکوں کا بھی کوئی لمحہ ہو
کانپتے عکس کو کچھ دیر ٹھہر کر دیکھوں
اجنبیت میں بھی اک لطف شناسائی ہے
روک کر اس کو کبھی نام تو اس کا پوچھوں
پاؤں سرسبز زمیں پر بھی نہ گر ہوں سیراب
کیوں میں جلتے ہوئے صحرا کے سفر سے لوٹوں
میں تضادات کی دنیا میں ہوں تنہا مظہرؔ
اس کو چاہوں بھی مگر اس سے گریزاں بھی رہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.