یوں ہی نہیں باقاعدہ الہام ہوا ہے
یوں ہی نہیں باقاعدہ الہام ہوا ہے
اس واسطے ہی عشق ترے نام ہوا ہے
آواز لگاتا تھا ملنگ اک سر بازار
دیکھو یہ مرا عشق میں انجام ہوا ہے
ہر دن مرا خاموشی سے کٹتا رہا لیکن
ہر رات تری یاد میں کہرام ہوا ہے
یوں ہی نہیں اشعار پہ جھومی ہے تری بزم
دن رات سخن ہی کے لیے کام ہوا ہے
وہ سامنے بیٹھے نظر آئے تو ہوا یوں
مدت پہ ذرا دل کو پھر آرام ہوا ہے
لوگوں میں عناصر ہی نہیں ہوتے وفا کے
بے وجہ مگر عشق ہی بدنام ہوا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.