جوش جنوں میں فرق نہ آیا کچھ بھی گرمی سردی سے
جوش جنوں میں فرق نہ آیا کچھ بھی گرمی سردی سے
دل میں زخم کے پھول کھلے خورداد میں بھی فروردی سے
اک حسن بیمار کے غم میں جی کو روگ لگا بیٹھے
عشق و جنوں تک آ پہنچی جو بات چلی ہمدردی سے
مسجد مکتب دیر و حرم کیا چھوٹ گئے گھر بار سے بھی
جب سے ہوا ہے دل کا تعلق عشق کی کوچہ گردی سے
پرزے پرزے جامۂ جاں ہے ٹکڑے ٹکڑے دامن دل
ٹھکرایا اخلاص کو میرے آپ نے کس بے دردی سے
ہم اپنے ماضی سے کیوں کر ترک تعلق کر لیتے
ہوتا ہے ہر طرح تسلسل ہر فردا کو ہر دی سے
عشق چھپائے کب چھپتا ہے لاکھ تبسم ریز رہیں
رنگ محبت جھلک رہا ہے رخساروں کی زردی سے
یہ دین و دنیا کے حوادث عشق و وفا کے یہ صدمے
کتنے غموں سے ٹکر لی ہے تاباںؔ نے پا مردی سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.