جو سیڑھیوں سے سانپ کے خانے میں آئے ہیں
جو سیڑھیوں سے سانپ کے خانے میں آئے ہیں
وہ سب یقیں کے آخری درجے میں آئے ہیں
اس عشق نے عطا کی تمہیں دن کی روشنی
راتوں کے رتجگے مرے حصے میں آئے ہیں
کل رات خود کو دفن جہاں کر گئے تھے ہم
پھر آج خود سے اپنے ہی پرسے میں آئے ہیں
محسوس یہ ہوا کہ پکارا ہے آپ نے
اس وہم پر ہی دوڑ کے لمحے میں آئے ہیں
الزام جو بھی چاہیں ہمیں آپ دیجئے
ہم اس لئے تو آپ کے قصے میں آئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.