Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چھوڑ دیں ساقی اگر تیرے ہی مے خانے کو ہم

اقبال صفی پوری

چھوڑ دیں ساقی اگر تیرے ہی مے خانے کو ہم

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    چھوڑ دیں ساقی اگر تیرے ہی مے خانے کو ہم

    اور کس کے در پہ جائیں ہاتھ پھیلانے کو ہم

    کب تک آنکھوں سے بہائے جائیں یوں دل کا لہو

    اب کوئی رنگ اور دیں گے اپنے افسانے کو ہم

    کس قدر بدلا ہوا ہے اب نظام مے کدہ

    اس سے پہلے چھو نہیں سکتے تھے پیمانے کو ہم

    ایک ہی شوق و طلب کا رنگ ہے دونوں طرف

    جان محفل شمع کو سمجھیں کہ پروانے کو ہم

    پھر ہوئی بیدار دل میں لذت ذوق خلش

    پھر چلے دامن انہیں کانٹوں میں الجھانے کو ہم

    تشنگی لے آتی ہے اب ایسی منزل پر ہمیں

    بس چلے تو چھین لیں ساقی سے پیمانے کو ہم

    لوگ اپنوں سے بھی ملتے ہیں تو کیا بے گانہ وار

    کیسا کیسا چاہتے ہیں ایک بے گانے کو ہم

    وہ نگاہ مست بھی ہے دور پیمانہ بھی ہے

    اب نگاہ مست کو دیکھیں کہ پیمانے کو ہم

    ہے جنون آبلہ پائی یہی اقبالؔ اگر

    رفتہ رفتہ گلستاں کر دیں گے ویرانے کو ہم

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے