چھوڑ دیں ساقی اگر تیرے ہی مے خانے کو ہم
چھوڑ دیں ساقی اگر تیرے ہی مے خانے کو ہم
اور کس کے در پہ جائیں ہاتھ پھیلانے کو ہم
کب تک آنکھوں سے بہائے جائیں یوں دل کا لہو
اب کوئی رنگ اور دیں گے اپنے افسانے کو ہم
کس قدر بدلا ہوا ہے اب نظام مے کدہ
اس سے پہلے چھو نہیں سکتے تھے پیمانے کو ہم
ایک ہی شوق و طلب کا رنگ ہے دونوں طرف
جان محفل شمع کو سمجھیں کہ پروانے کو ہم
پھر ہوئی بیدار دل میں لذت ذوق خلش
پھر چلے دامن انہیں کانٹوں میں الجھانے کو ہم
تشنگی لے آتی ہے اب ایسی منزل پر ہمیں
بس چلے تو چھین لیں ساقی سے پیمانے کو ہم
لوگ اپنوں سے بھی ملتے ہیں تو کیا بے گانہ وار
کیسا کیسا چاہتے ہیں ایک بے گانے کو ہم
وہ نگاہ مست بھی ہے دور پیمانہ بھی ہے
اب نگاہ مست کو دیکھیں کہ پیمانے کو ہم
ہے جنون آبلہ پائی یہی اقبالؔ اگر
رفتہ رفتہ گلستاں کر دیں گے ویرانے کو ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.