جیت کا سہرا جن کے سر ہے ان سے کب تلوار اٹھی
جیت کا سہرا جن کے سر ہے ان سے کب تلوار اٹھی
ہم گمناموں کی لاشوں پر شہرت کی دیوار اٹھی
اہل جنوں کی آہٹ سن کر دشت وفا بے چین ہوا
ہر ہر گوشہ سے پچھلی زنجیروں کی جھنکار اٹھی
اب تو ضرورت کی اک پگڑی ہے یاروں کے کندھوں پر
ہم لوگوں کے ساتھ یہاں سے رسم صلیب و دار اٹھی
اتنے تھکے ہارے تھے ہم بھی بس گرنے ہی والے تھے
ہم کو سہارا دینے لیکن گرد کوچۂ یار اٹھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.