ترقیوں کی دوڑ میں اسی کا زور چل گیا
ترقیوں کی دوڑ میں اسی کا زور چل گیا
بنا کے اپنا راستہ جو بھیڑ سے نکل گیا
سلگ اٹھیں گے جانے کتنے دل حسد کی آگ سے
اگر ہوا کے سامنے مرا چراغ جل گیا
کہاں تو بات کر رہا تھا کھیلنے کی آگ سے
ذرا سی آنچ کیا لگی کہ موم سا پگھل گیا
ذرا سی دیر کے لئے جو آ گیا میں ابر میں
ادھر یہ شور مچ گیا کہ آفتاب ڈھل گیا
عروج پر نصیب تھا تو چھو رہا تھا آسماں
بگڑ گیا نصیب تو زمیں سے بھی پھسل گیا
مجھی کو اپنی شکل آج لگ رہی ہے اجنبی
نہ جانے کون میرے گھر کے آئنے بدل گیا
تری مری نگاہ کے چراغ یوں نہ جل سکے
کبھی ہوائیں چل پڑیں کبھی سماں بدل گیا
نعیمؔ ہجرتوں کی رت نے زور بھی دیا مگر
نہ باغ سے ہوا گئی نہ جھیل سے کنول گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.